اس ستمگر کو خبر کیا کرتے

اس ستمگر کو خبر کیا کرتے
ذکرِغم، بارِ دگر کیا کرتے

ساری دنیا کا جو دم گھٹنے لگا
چند گنتی کے شجر کیا کرتے

پھر تو رہ جاتے فرشتے بن کر
گر بھٹکتے نہ بشر کیا کرتے

علم بانٹا نہ کسی کو تم نے
اور توہینِ ہنر کیا کرتے

اہلِ دل، اہلِ وفا ہیں ممنون
دار نہ ہوتی تو سر کیا کرتے

بے ضمیری کے وہ عادی مجرم
میرے افکار اثر کیا کرتے

ہم سے لوگوں کے لئے دنیا میں
پیار ہوتا نہ اگر، کیا کرتے

کُوچ لازم تھا ترے بعد مرا
کوچہءِ غیر میں گھر کیا کرتے

اہلِ محفل کی نظر تھی ان پر
میری جانب وہ نظر کیا کرتے

ہم ہیں آفات کے عادی راجاؔ
دردِ دل، دردِ جگر کیا کرتے

امجد علی راجاؔ