بحر کے ارکان ہیں سمجھو یہ بات
تجھ کو سمجھاتا رہوں کیا ساری رات
آزماؤں آزمودہ نسخہ آج؟
ایک تھپڑ، ایک گھونسہ، ایک لات
شاعر: امجد علی راجاؔ
بحر کے ارکان ہیں سمجھو یہ بات
تجھ کو سمجھاتا رہوں کیا ساری رات
آزماؤں آزمودہ نسخہ آج؟
ایک تھپڑ، ایک گھونسہ، ایک لات
شاعر: امجد علی راجاؔ