ایک جنجال ہے سسرال مرا، سو بورنگ
اس پہ شوہر بھی نہ قابو میں ہوا، سو بورنگ
مر گئے چھوڑ کے دولت کے خزانے دادا
جشن کے بدلے ہوئی قُل کی دعا، سو بورنگ
شرم کی بات ہے سرکار میں افسر ہے مگر
اپنے خرچے پہ وہ حج کرنے گیا، سو بورنگ
گولڈ کی رنگ، آئی فون، نہ مہنگا پرفیوم
پیار میں اس نے بس اک پھول دیا، سو بورنگ
چھ مہینے سے وہ چپکی ہے اسی لڑکے سے
آج کے فاسٹ زمانے میں وفا، سو بورنگ
ڈش کوئی مرغ کی کھائے تو کوئی بات بھی ہو
دال کھا کر بھی کیا شکر ادا، سو بورنگ
میں نے لکھا اسے اردو میں محبت نامہ
ہائے! انگریز کی بچی نے کہا، سو بورنگ
کیسی بے لطف ہے سنت کے مطابق شادی
ناچ فی میل نہ شی میل کا تھا، سو بورنگ
ایک تو ہاتھ بٹاتا نہیں شوہر میرا
اس پہ بچوں کا بھی تانتا ہے بندھا، سو بورنگ
شعر تو کہتے ہیں بجلی کے اجالے میں مگر
ذکرِ شمع ہے کہیں ذکرِ دیا، سو بورنگ
ان کا کہنا ہے محافظ نہیں درکار مجھے
صدقے خیرات سے ٹلتی ہے بلا، سو بورنگ
میری پُرلطف غزل بزم میں سن کر لوگو
کس چھچھورے نے لگائی ہے صدا، سو بورنگ
شاعر: امجد علی راجاؔ