بیگم سے تو پِٹا تو ہے، پر یوں پٹا کہ یوں

بیگم سے تو پِٹا تو ہے، پر یوں پٹا کہ یوں
مرغا بنا تو کیسے بنا، یوں بنا کہ یوں

بیگم تمہارے باپ کی ٹوٹی ہے کیسے ٹانگ
لے جا کے مجھ کو بام پہ، دھکا دیا کہ یوں

ایسی ہی کیسے ٹوٹ گیا کانچ کا گلاس
بیگم نے جھٹ سے پھینک دیا دوسرا کہ یوں

کنگھی نہ تھی تو جوئیں نکالی ہیں کس طرح؟
“زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں”

شوہر کو بس میں کیسے کروں، ٹِپ تو دیجئے
پکڑا کے ماں نے ہاتھ میں بیلن کہا کہ یوں

سو کِیوٹ! ہوں میں، دل سے نکالو گے کس طرح
چٹکی بجا کے یار نے چلتا کیا کہ یوں

محبوب تم نے کیسے بنائے ہیں درجنوں
پیروں سے وہ لپٹ گیا، کہنے لگا کہ یوں

حجام! کیسے شیخ نے رشتہ دیا تجھے؟
گردن پہ اس نے روک دیا اُسترا کہ یوں

بیوی کی موت کی وجہ پوچھی جو بار بار
تنگ آگیا، دبوچ لیا ٹیٹوا کہ یوں

شاعر: امجد علی راجاؔ