ترے بانکپن کی شرارتیں یوں دل و دماغ پہ چھا گئیں

ترے بانکپن کی شرارتیں یوں دل و دماغ پہ چھا گئیں
کبھی دل ہوا تو ہنسا گئیں، کبھی دل ہوا تو رلا گئیں

وہ نگاہِ برق نما کبھی ترے شوقِ دید پہ گِر پڑے
تجھے تب خبر ہو کہ حسرتیں مری نیند کیسے اُڑا گئیں

وہ کمال وسعتِ دل ہے کہ جو سما سکیں نہ جہان میں
وہ طرح طرح کی قیامتیں مرے ایک دل میں سما گئیں

میں گلہ کروں بھی تو کیا کروں بھلا حسرتوں کا قصور کیا
میں فقیرِ عشق ہوں اس لئے وہ متاعِ اشک تھما گئیں

دلِ عاشقانِ فریفتہ کبھی مول تھا ترے حسن کا
تری بےحجاب نمائشیں ترا دامِ حسن گرا گئیں

نہ متاعِ شرم و حیا رہی، نہ چلن ہے مہرووفا کا اب
نئے دور کی ہیں خباثتیں جو تڑپ کے لطف کو کھا گئیں

دلِ مضطرب مجھے معاف کر تری خواہشیں سبھی رہ گئی
میں کروں بھی کیا مجھے زندگی کی ضروریات تھکا گئیں

امجد علی راجاؔ