تمہیں اب کیا بتاؤں میں

تمہیں اب کیا بتاؤں میں

کہ بچپن سے ہی مجھ کو شوق تھا دولت کمانے کا
کبھی پاکٹ کترنے کا، کبھی چیزیں چرانے کا
مرے ابا کے آگے جب میری تعریف ہوتی تھی
تو جوتا ان کا ہوتا تھا مری تشریف ہوتی تھی

تمہیں اب کیا بتاؤں میں

کہ میں دل پھینک عاشق تھا حسیناؤں پہ مرتا تھا
پہنتی تھیں جو اونچی ہیل ان سے بھی نہ ڈرتا تھا
کہا جس سے بھی آئی لو یو، وہی تھپڑ لگا دیتی
پھر اس پر اک ستم یہ بھی کہ ابا کو بتا دیتی

تمہیں اب کیا بتاؤں میں

کہ کالج کے زمانے میں سیاستدان ہوتا تھا
پروفیسر بھی ڈرتے تھے میں اک طوفان ہوتا تھا
کبھی دنگے میں کرواتا کبھی ہڑتال ہوتی تھی
پھر اس کے بعد تھانے میں مری پڑتال ہوتی تھی

تمہیں اب کیا بتاؤں میں

نہ تھی تعلیم میری پھر کہاں سے نوکری ملتی
نہیں تھی نوکری میری کہاں سے چھوکری ملتی
ہماری گینگ زخمی حال میں تھانے میں لیٹی تھی
جسے گھر سے بھگایا تھا پولیس والے کی بیٹی تھی

تمہیں اب کیا بتاؤں میں

ملی گاڑی، ملا پستول، دولت بھی ملی مجھ کو
سیاسی کارکن بنتے ہی طاقت بھی ملی مجھ کو
پولیس نے دھر لیا، کہنے لگے یہ تو کرپشن ہے
پچاسی ووٹ ڈالے ہیں تو کیا، آخر الیکشن ہے

تمہیں اب کیا بتاؤں میں

مرے کرتوت ہیں قسمت کا یا پھر کھیل ہے یارو
میں تنہا ہوں مری دنیا فقط یہ جیل ہے یارو
میں جب سے ہوں یہاں ہر رات رو رو کر گزاری ہے
کبھی کھٹمل کی باری ہے، کبھی چھتر کی باری ہے

تمہیں اب کیا بتاؤں میں

شاعر: امجد علی راجاؔ