خاموش صداؤں کو سنا کون کرے گا
دلبر تری آنکھوں کو پڑھا کون کرے گا
اک تُو ہی تو ہے جس کو یہ حق میں نے دیا ہے
مت چھوڑ کے جا مجھ سے لڑا کون کرے گا
ہے عہدِ جوانی تو بھلا عشق نہ کیوں ہو
پیری میں یہ رنگین خطا کون کرے گا
دستورِ زمانہ بھی روایت بھی یہی ہے
اپنے نہ کریں گے تو بُرا کون کرے گا
کرتی ہے فرشتوں سے جدا ایک یہی بات
میں ہی نہ کروں گا تو خطا کون کرے گا
زنداں کے اسیروں کی تو ممکن ہے رہائی
نفسوں کے اسیروں کو رہا کون کرے گا
مغرب کی تو تہذیب ہی ہے برہنہ لوگو
مشرق نہ کرے گا تو حیا کون کرے گا
رخصت ہوا دنیا سے مرا دشمنِ جاں بھی
راجاؔ مرے مرنے کی دعا کون کرے گا
امجد علی راجاؔ