دلِ سنساں کی قسم ہستیِ ویراں کی قسم

دلِ سنساں کی قسم ہستیِ ویراں کی قسم
منتظر ہوں میں تمہارا مجھے اس جاں کی قسم

غم نہ کر لوٹ کے آنا ہے ترے پاس مجھے
سرخ آنکھوں کی قسم، ہے لبِ لرزاں کی قسم

جب سے دیکھا ہے اسے کوئی بھی جچتا ہی نہیں
حسنِ خوباں کی قسم عشقِ خراباں کی قسم

پیار برسا دلِ بنجر پہ تو زرخیز ہوا
کِشتِ تنہائی میں اُگتے ہوئے ارماں کی قسم

چین آتا ہی نہیں تیرے بنا جاؤں کہاں 
شہرِ گنجاں کی قسم وحشتِ ویراں کی قسم

میں ترا تھا، میں ترا ہوں، میں رہوں گا تیرا
حسنِ نازاں کی قسم جانِ بہاراں کی قسم

عشق میں پہلا قدم خود کی نفی ہے راجاؔ
وجدِ صوفی کی قسم رقصِ فقیراں کی قسم

امجد علی راجاؔ