راستوں کی مرے قدموں سے رفاقت نہ گئی
بعد منزل کے بھی قسمت سے مسافت نہ گئی
نوچ لیتی ہیں امیدوں کے ہرے پتوں کو
میرے گلشن کی ہواؤں سے سیاست نہ گئی
شہر میں یوں تو ہر اک شے کی فراوانی ہے
پر کسی دل سے بھی احساس کی قلت نہ گئی
شوقِ پرواز ہر اک فکر میں رقصاں ہے مگر
دل میں مدت سے جو بیٹھی ہے وہ وحشت نہ گئی
اب بھی سجدے کیئے جاتے ہیں کئی ناموں سے
بت شکن ہو کے بھی پتھر سے عقیدت نہ گئی
سرد جذبے مرے اطراف میں پھیلے ہیں مگر
گوشہءِ دل سے محبت کی حرارت نہ گئی
شب کے پہلو سے ابھرتا ہے ہمیشہ سورج
ظلمتِ شب سے اجالوں کی بغاوت نہ گئی
دل کی فریاد زباں تک نہیں آئی لیکن
دردِ دل سے مرے اشکوں کی رفاقت نہ گئی
قوم بننے کا سلیقہ بھی نہ آیا راجاؔ
فرد کے فرد رہے دل سے کدورت نہ گئی
امجد علی راجاؔ