روز کے وبالوں سے ان کو خوف آتا ہے
بیویوں کی چالوں سے ان کو خوف آتا ہے
رات ان کی شادی کی دن کی طرح روشن تھی
اس کے بعد اجالوں سے ان کو خوف آتا ہے
بیف، فش، مٹن پر ہے اب گزارہ بیگم کا
سبزیوں سے دالوں سے ان کو خوف آتا ہے
دو منٹ میں بیگم کو ٹھیک کر تو دیں لیکن
بیل جیسے سالوں سے ان کو خوف آتا ہے
بزم ہے جوانوں کی مغربی حوالے دیں
مشرقی حوالوں سے ان کو خوف آتا ہے
چور کر گئے خالی گھر کو ایک جھٹکے میں
چائنہ کے تالوں سے ان کو خوف آتا ہے
لے نہ لے کوئی سرجن، ان سے قوم کا بدلہ
یاں کے ہسپتالوں سے ان کو خوف آتا ہے
اس قدر پِٹے ہیں وہ حسن کے تعاقب میں
اب تو حسن والوں سے ان کو خوف آتا ہے
“تیر” کی مثالیں دیں اپنے سب وزیروں کو
“شیر” کی مثالوں سے ان کو خوف آتا ہے
ایک بار پھر شادی کر تو لیں مگر راجاؔ
دیکچوں سے پیالوں سے ان کو خوف آتا ہے
شاعر: امجد علی راجاؔ