سنا ہے سال بدلے گا
سنا ہے رات کی تاریکیوں میں سال بدلے گا
تو پھر طے ہے، زمانہ کل سے اپنی چال بدلے گا
شکاری گھات بدلے گا پرانے جال بدلے گا
کھلاڑی ہر کوئی اپنی پرانی چال بدلے گا
کوئی اتنا بتا دو! قوم کا کچھ حال بدلے گا
اگر ہم ہی نہیں بدلے تو پھر کیا سال بدلے گا
اُڑیں گے فکر کے پنچھی، تدبر جستجو ہوگی
اٹھیں گے سوچ سے پہرے تو خوابوں کی نمو ہوگی
ہٹے پردے بصارت سے تو منزل روبرو ہوگی
ہماری خود شناسی سے قبا اپنی رفو ہوگی
زمانے کے سُروں پر کوئی اپنی تال بدلے گا؟
اگر ہم ہی نہیں بدلے تو پھر کیا سال بدلے گا
شعور و آگہی کے سائے میں تعلیم پائیں گے
تخیل کی زمیں پر اک نئی دنیا بسائیں گے
خلا سے ڈھونڈ کر ہر کہکشاں دھرتی پہ لائیں گے
بھلا انسانیت کا ہو، کچھ ایسا کر دکھائیں گے
بدلنا ہوگا ہم کو، وقت جب بھی چال بدلے گا
اگر ہم ہی نہیں بدلے تو پھر کیا سال بدلے گا
بھلا قانون بالادست ہوگا، معتبر ہوگا؟
کرپشن کرنے والوں کو سزا ملنے کا ڈر ہوگا؟
بِنا رشوت سفارش، صرف میرٹ کارگر ہوگا؟
ملے حقدار کو حق، کیا یقینی طور پر ہوگا؟
کوئی قارون، یا ہامون، یا دجال بدلے گا؟
اگر ہم ہی نہیں بدلے تو پھر کیا سال بدلے گا
کرپشن چھوڑ دے گا، کیا سیاستدان بدلے گا؟
کوئی ملا، کوئی رہبر، کوئی سلطان بدلے گا؟
سدا بِکتا رہے گا یا کبھی ایمان بدلے گا؟
کوئی باغی خدا کا، کوئی نافرمان بدلے گا؟
رہے گمراہ تو کیسے کوئی بدحال بدلے گا
اگر ہم ہی نہیں بدلے تو پھر کیا سال بدلے گا
صحافی سچ لکھیں گے، میڈیا کردار بدلے گا؟
کوئی تبدیلی لائے گا مرا فنکار بدلے گا؟
رہے گا زر، کہ عزت کا کوئی معیار بدلے گا؟
مرے اندر کا ظالم، سنگ دل، بدکار بدلے گا؟
نہ میں بدلا، نہ تم بدلے تو کیسے حال بدلے گا
اگر ہم ہی نہیں بدلے تو پھر کیا سال بدلے گا
ہر اک مظلوم کے سر پر تحفظ کی ردا ہوگی؟
ملے انصاف سب کو کیا یہ صورت رونما ہوگی؟
صدائے حق لگے جب بھی حمایت برملا ہوگی؟
امیروں کو بھی ہوگی یا غریبوں کو سزا ہوگی؟
بنا کوشش کے راجاؔ کیا کوئی بدحال بدلے گا
اگر ہم ہی نہیں بدلے تو پھر کیا سال بدلے گا
امجد علی راجاؔ