سوچوں پہ اک حصار ہے ساقی شراب لا

سوچوں پہ اک حصار ہے ساقی شراب لا
یہ ہوش ناگوار ہے ساقی شراب لا

بے تاب حسرتیں بھی ہیں، یادیں بھی اشک بھی
اب کس کا انتظار ہے، ساقی شراب لا

دنیا بکھر رہی ہے تخیل کی ہوش میں
سوچوں میں انتشار ہے ساقی شراب لا

دل سے نکال دوں اسے، میں چاہتا تو ہوں
کب دل پہ اختیار ہے ساقی شراب لا

دیکھا اسے تو خود سے ملاقات ہوگئی
یہ شام یادگار ہے ساقی شراب لا

دِکھتا نہیں کہ ہوش کی دلدل میں پھنس چلا
کیسا تُو غمگسار ہے، ساقی شراب لا

یہ لطف، یہ سرور، یہ راحت، یہ بے خودی
مجھ پر ترا ادھار ہے ساقی شراب لا

راجاؔ جلا نہ دوں کہیں دنیا کو ہوش میں
مجھ پر جنوں سوار ہے ساقی شراب لا

امجد علی راجاؔ