غمزدہ ہے، دکھ زدہ ہے، قوم ساری زد میں ہے
ملک بھی دہشت زدہ ہے اور آبادی زدہ
پہلے شادی خانہ آبادی ہوا کرتی تو تھی
اب تو شادی کرکے ہوتا ہے ہر اک شادی زدہ
شاعر: امجد علی راجاؔ
غمزدہ ہے، دکھ زدہ ہے، قوم ساری زد میں ہے
ملک بھی دہشت زدہ ہے اور آبادی زدہ
پہلے شادی خانہ آبادی ہوا کرتی تو تھی
اب تو شادی کرکے ہوتا ہے ہر اک شادی زدہ
شاعر: امجد علی راجاؔ