“غم ہے یا خوشی ہے تُو”
کیسی دوغلی ہے تُو
جیت کو پلٹ دے جو
ایسی دھاندلی ہے تُو
سانس لے نہ پاؤں میں
ایسی بلغمی ہے تُو
جان تُو نہ چھوڑے گی
مرض دائمی ہے تُو
چار سوٹ لے دیئے
پھر بھی مر رہی ہے تُو
لے گی جان تُو مری
زہر کی پُڑی ہے تُو
مجھ کو کھا ہی جائے گی
ایسے گھورتی ہے تُو
چین ایک پل نہیں
جان پر بنی ہو تُو
آتے ہی چلی گئی
جیسے سیلری ہے تُو
مرچ جس میں گِر گئی
ایسی چاشنی ہے تُو
پھٹ نہ جائے تُو کہیں
کتنا ٹھونستی ہے تُو
درجنوں رقیب ہیں
ایسی لعنتی ہے تُو
سرخ کوئلوں سے ڈر
آگ پھانکتی ہے تُو
سانپ تجھ سے لیتے ہیں
زہر سے بھری ہے تُو
ایسے جھومتی ہے کیوں
جیسے پوڈری ہے تُو
جانتا ہوں میں تجھے
لمبی چھوڑتی ہے تُو
میں شریف ہو گیا
“ہاں مگر وہی ہے تُو”
فتوے بات بات پر
پوری مولوی ہے تُو
رہبری کی آڑ میں
صرف رہزنی ہے تُو
چاہتوں کے نام پر
مجھ کو کھا گئی ہے تُو
شکل ہے نہ پَر ترے
پھر بھی اُڑ رہی ہے تُو
کیا مقابلہ کروں
پوری آرمی ہے تُو
کیا مجال ہے مری
طاقت ایٹمی ہے تُو
روز اک نئی کریم
پھر بھی حبشنی ہے تُو
دردِ سر ہو کیوں تجھے
خالی کھوپڑی ہے تُو
دن میں نیند آگئی
ایسی نیستی ہے تُو
سب تجھی سے لڑتے ہیں
دودھ کی دُھلی ہے تُو
وصل سوٹ کے عوض
کتنی مطلبی ہے تُو
کان پک گئے مرے
کتنا بولتی ہے تُو
ماں تری ہے شیرنی
اور لومڑی ہے تّو
گھر میں پھوٹ ڈال دی
ایسی سازشی ہے تُو
فیملی کے درمیاں
وجہ دشمنی ہے تُو
زن مرید بن گیا
اب کیا چاہتی ہے تُو
گھر کے کام کاج میں
کیسی ادھ مری ہے تُو
جاب کیا ملی تجھے
رعب جھاڑتی ہے تُو
حرکتیں ہیں مغربی
بنتی مشرقی ہے تُو
پھول جھڑتے تھے پر اب
زہر اگل رہی ہے تُو
بد تمیز بد لحاظ
وجہِ مفلسی ہے تُو
گھر کا حال دیکھ لے
فخرِ کاہلی ہے تُو
آزمائشوں سے فُل
کیسی زندگی ہے تُو
صبر کی وجہ تو ہو
مجھ کو لازمی ہے تُو
دبدبہ بھی دب گیا
مجھ سے کب دبی ہے تُو
ٹنڈ بےسبب نہیں
بال نوچتی ہے تُو
چُپ لگی ہے بزم میں
سر پہ جو کھڑی ہے تُو
خوش کلام تھی پر اب
بیوی بن گئی ہے تُو
گھُٹ رہا ہے دم مرا
موت کی گھڑی ہے تُو
میں ہوں دیسی آدمی
اور فارمی ہے تُو
ہو چکے مذاکرات
اب سے ملتوی ہے تُو
اک امام دین تھا
اس کی شاعری ہے تُو
چُپ ہے پِٹ کے بیوی سے
راجاؔ جنتی ہے تُو
شاعر: امجد علی راجاؔ