غیبی مدد
جس دیس میں ظلم و ستم سہنا لوگوں کی عادت ہوتی ہے
بِکتے ہیں جسم، ضمیر، قلم، ایمان کی قیمت ہوتی ہے
جب سود، ذخیرہ اندوزی لوگوں کی معیشت ہوتی ہے
پھر غیبی مدد کی ایسے میں امید جہالت ہوتی ہے
مبنی ہو نصاب غلامی پر، جب حاصلِ علم جہالت ہو
جب دھوکہ دہی، بدعنوانی، حق تلفی، جھوٹ روایت ہو
کردار کی وُقعت کچھ بھی نہ ہو، بس دولت باعثِ عزت ہو
پھر غیبی مدد کیونکر آئے فرقوں میں بٹی جب اُمت ہو
جب غیبی مدد کی خواہش ہو خود بھی کچھ کرنا پڑتا ہے
میدانِ عمل میں کَس کے کمر پُرجوش اترنا پڑتا ہے
باطل سے لڑنا پڑتا ہے حق کے لئے مرنا پڑتا ہے
مخلوق کے خوف کو چھوڑ کے پھر خالق سے ڈرنا پڑتا ہے
مظلوم کی بے بس آہوں سے جب طاقت ور گھبرائیں گے
بے سود نظامِ معیشت کے اسباب بنائے جائیں گے
اندھی تقلید کے بُت سارے چُن چُن کے گرائے جائیں گے
خالق کے حضور ندامت کے جب اشک بہائے جائیں گے
کوشش کے ساتھ دعا ہوگی راجا تبدیلی آئے گی
ہمت کی ٹھوکر مایوسی کی ہر دیوار گرائے گی
جب پیٹ پہ پتھر باندھیں گے جب خندق کھودی جائے گی
خود اپنی مدد کی ٹھانیں گے ہم غیبی مدد تب آئے گی
امجد علی راجاؔ