فنکار
چار سُو بے ضمیری کے بازار ہیں
لوگ بھی ہیں جو بِکنے کو تیار ہیں
جو لگاتے ہیں ایمان پر بولیاں
ایسے ایسے یہاں پر خریدار ہیں
جو خریدے نہ جائیں وہ فنکار ہیں
ہم ہیں فنکار، حق کے علمدار ہیں
کچھ بھی ہو ہم کسی کو ستاتے نہیں
پر حقائق سے نظریں چراتے نہیں
سر کٹاتے ہیں ہم مسکراتے ہوئے
مسکراتے ہوئے سر جھکاتے نہیں
اپنی فطرت کے آگے تو لاچار ہیں
ہم ہیں فنکار، حق کے علمدار ہیں
حق کے میزان میں وہ نہیں تولتے
اپنے حق کے لئے بھی نہیں بولتے
ہم تو بولیں گے چاہے زباں کاٹ لو
وہ تو مردہ ہیں جو لب نہیں کھولتے
ہم تو لوگوں کے جذبوں کا اظہار ہیں
ہم ہیں فنکار، حق کے علمدار ہیں
امجد علی راجاؔ