قوم کے غم سے جڑا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
پھر بھی نظروں سے گرا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
تُو ہے لندن میں، کہاں ہوں میں بھی پاکستان میں
پر سیاست سے کٹا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
کون ہے جو قیمتوں پر پاسکے قابو یہاں
قوم کے حق میں کھڑا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
کیا ضرورت ہے کہ ٹینشن لیں غریبوں کے لئے
جبکہ غربت میں پلا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
طالبانی ہو یا امریکی ہو بم، اپنے ہی ہیں
دیکھ لے اب تک پھٹا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
اگلے پنج سالے میں مل کر ہی بنیں گے حکمراں
اپنے پیروں پر کھڑا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
خان ہی آئے گا امریکہ کی زد میں دیکھنا
“آئی ایم ایف” سے خفا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
خان اگر نااہل نہ ہو، 9 مئی کا فائدہ؟
وہ الیکشن میں ہوا، تو بھی نہیں میں بھی نہیں
بچ بچا کر فارورڈ کرنی ہے راجاؔ کی غزل
لگ گیا “ان” کو پتہ، تو بھی نہیں میں بھی نہیں
شاعر: امجد علی راجاؔ