مریضِ عشق کی یارو دوا کوئی نہیں ہے؟

مریضِ عشق کی یارو دوا کوئی نہیں ہے؟
تمہارے شہر میں درد آشنا کوئی نہیں ہے؟

غضب یہ ہے محبت کے ہیں دعوے ہر زباں پر
محبت کے تقاضے جانتا کوئی نہیں ہے

خدا کا شکر چہرے پر ہے میرے مسکراہٹ
خدا کا شکر دل میں جھانکتا کوئی نہیں ہے

عجب سی وحشتیں ہیں بے سبب سی الجھنیں ہیں 
عجب یہ مسئلہ ہے مسئلہ کوئی نہیں ہے

ہر اک انسان ہے مجبور اپنے آپ میں ہی
گلہ کس سے کروں میں بے وفا کوئی نہیں ہے

ابھی تو ہے جنوں تیرا فقط اک طفلِ مکتب
سلامت ہے قبا، پتھر لگا کوئی نہیں ہے

غزل گوئی نے راجاؔ کر دیا بدنام لیکن
مری غزلوں کے پیچھے سانحہ کوئی نہیں ہے

امجد علی راجاؔ