میرا دردِ کمر کم ہوا دیکھ کر، نرس جب مسکرائی مزہ آگیا
بھر کے ٹیکے مجھے جو لگائے گئے، جام تھے یا دوائی مزہ آگیا
جس کی خاطر مجھے اس نے ٹھکرا دیا، ساتھ اس کے جو دیکھا وہی منچلا
اور پھر دوستو میری اک کال پر، آگئے اس کے بھائی مزہ آگیا
مال و دولت کے منتر سے جادو کیا، میرے محبوب کو اس نے قابو کیا
دھوکہ بازی میں تھی وہ بھی کامل بہت، کھا گئی سب کمائی مزہ آگیا
بال ابا کے کم قرض زیادہ ہوا، پھر بھی شادی کرادی مری شکریہ
سونا پڑتا تھا پہلے زمیں پر مجھے، مل گئی چارپائی مزہ آگیا
اپنی ممی کے کہنے میں آتی رہی، میری بیگم سبھی کو ستاتی رہی
اس کی بھابی نے بھی اس کی ممی کے گھر، آگ ایسی لگائی مزہ آگیا
عورتوں کے تقدس پہ تھی گفتگو، آگئی بزم میں جونہی اک خوبرو
کھُل کے کردار سب آگئے سب سامنے، لُٹ گئی پارسائی مزہ آگیا
سب سیاسی جماعت کے ہیں نامزد، قوم کا نامزد ان میں کوئی نہیں
سب سیاسی لٹیروں کو اس بات نے ایسی مرچی لگائی مزہ آگیا
بیویاں دونوں راجاؔ ہیں ظالم میری، آج دونوں کسی بات پر لڑپڑیں
بال کھینچے گئے، گال نوچے گئے، دیکھ کر یہ لڑائی مزہ آگیا
شاعر: امجد علی راجاؔ