وفا تمہاری تمہارے اپنوں سے دھوکہ کھائے تو لوٹ آنا

وفا تمہاری تمہارے اپنوں سے دھوکہ کھائے تو لوٹ آنا
کسی قدم پر بھی دل تمہارا جو ٹوٹ جائے تو لوٹ آنا

تمہیں بھروسہ ہے جس ہوا پر کہ تم کو لے جائے گی فلک تک
وہی ہوا جب بلندیوں سے تمہیں گرائے تو لوٹ آنا

اندھیری راہوں میں روشنی کو تلاش کرتے ہو ناسمجھ ہو
کبھی اجالا کوئی تمہارے نہ ہاتھ آئے تو لوٹ آنا

تلاش کرنے چلے ہو جس کو وہی محبت تو دے رہا ہوں
تلاش کرلو، کبھی کہیں سے بھی مل نہ پائے تو لوٹ آنا

تمہاری راہوں میں ہر قدم پر چراغ روشن کروں گا لیکن
تمہارے خوابوں کی کوئی منزل نظر نہ آئے تو لوٹ آنا

قدم تمہارے جو ڈگمگائیں، میں تھام لیتا ہوں تم کو بڑھ  کے
کبھی تمہیں تھامنے کی خاطر کوئی نہ آئے تو لوٹ آنا

نمی اتر آئے تیری آنکھوں میں میری باتوں کو یاد کر کے
اور اس پہ تیرا اداس چہرہ بھی مسکرائے تو لوٹ آنا

جو نام تیرا بہت نزاکت سے لیں گے ایسی ہزار ہوں گے
اگر محبت سے کوئی جاناں ہی نہ بلائے تو لوٹ آنا

فریب کھاؤ گے، دھوکے کھاؤ گے، ٹوٹ جاؤ گے جانِ راجاؔ
میں کس طرف جاؤں کیا کروں میں، سمجھ نہ آئے تو لوٹ آنا

امجد علی راجاؔ