کبھی یہ آپ، کبھی تم، کبھی یہ تُو کیا ہے
زبانِ غیر میں یہ بدتمیز you کیا ہے
میں اشک وشک کی قائل نہیں مسز نے کہا
نہ چوس پائی اگر میں تو پھر لہو کیا ہے
کہاں کی ساس ہے جو ساس تر نوالہ ہو
اگر گلے میں نہ اٹکی تو پھر بہو کیا ہے
کِٹن ہے گود میں، شوہر ہے ان کے پیروں میں
خدا ہی جانے کہ اس گھر میں پالتو کیا ہے
کیا ہے چاک اسے زوجہءِ چہارم نے
ہماری جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
خدا کا شکر کہ اوپر کی آمدن بھی ہے
وگرنہ ان دنوں شوہر کی آبرو کیا ہے
شاعر: امجد علی راجاؔ