کھالیا غلطی سے اک سرکاری افسر کا نمک
زہر ہو گر جیب سے اپنی ہو پھر کھایا نمک
اس طرح ظالم نے زخموں پر مرے چھڑکا نمک
پہلے پھینٹا، پھر ٹکوروں کے لئے بھیجا نمک
میرے آنے کی خوشی میں وہ تو پاگل ہوگئی
ڈال دی سالن میں چینی، کھیر میں ڈالا نمک
کہہ دیا بیگم نے مصری ہے تو پھر مصری ہی ہے
جرأتِ انکار کس کی، کھا گیا سارا نمک
ساس ہے میری فشارِ خون بڑھنے کا سبب
اس لئے میں بھی اس کا نام ہے رکھا نمک
بن سنور کر لڑکیاں چاہے لگیں چینی نما
پر حقیقت ہے یہی ہوتا نہیں میٹھا نمک
شادیوں کی کان سے ہیرے نکلتے تھے کبھی
دو دہائیوں سے مگر ہر کان سے نکلا نمک
فرق بیگم اور محبوبہ میں ہے نمکین سا
اک طرف پھانکا ہو جیسے، اک طرف چکھا نمک
شاعر: امجد علی راجاؔ