کیسے ممکن ہے کہ پہنچے حق کسی حقدار تک

کیسے ممکن ہے کہ پہنچے حق کسی حقدار تک
کب کوئی ظالم ہے پہنچا کیفرِ کردار تک

ہم سا بھی لاچار دنیا میں کہیں ہوگا کوئی
قوم کے آقا بنے بیٹھے ہیں، خدمت گار تک

قوم کی غیرت بھی خطرے میں ہی سمجھو دوستو
شاہ کے پہلو میں ہوں جب قوم کے غدار تک

اور کیا ہو حکمرانوں کے ارادوں کی دلیل
غیر ملکوں میں بسا بیٹھے ہیں جو گھر بار تک

بچ نہ پائے گا خدا کے قہر سے اس کا محل
جس نے بھی چھینے غریبوں کے در و دیوار تک

جام کچھ ہاتھوں میں ہیں، لوٹے اٹھائے ہیں کئی
ہاتھ فارغ ہوں گے تو پہنچے گے پھر تلوار تک

قوم کی قسمت نئے انداز سے لکھیں گے وہ
فرق جن میں کچھ نہ ہو گفتار سے کردار تک

فرض ہو جاتی ہے راجاؔ پھر بغاوت قوم پر
منصفی کرتے نہ ہوں جب شاہ کے دربار تک

امجد علی راجاؔ