گناہگار ہیں یارب تُو درگزر کردے
شدید ظلمتِ شب ہے کوئی سحر کردے
ترے حبیب کے صدقے وصال کردے عطا
ہمارے پیار کو اتنا تو معتبر کردے
وہ اپنے ہاتھ پہ مہندی سے لکھ کے نام مرا
دکھائے سب کو، بس اتنا سا نام ور کردے
نہ لڑ سکوں گا میں میدانِ عشق میں تنہا
مرے خدا تُو مرے یار کو نڈر کردے
ترے حبیب کے در پر مرا حبیب آئے
ہمارے بخت میں ایسا کوئی سفر کردے
بنا دے عشق کا غازی کسی طرح ورنہ
شہیدِ عشق کا سہرا ہی میرے سر کردے
نہ جی سکوں گا کبھی، بس گزارنی ہوگی؟
یہ زندگی ہے تو بہتر ہے مختصر کردے
صدائے حق میں لگاؤں گا آخری دم تک
مرے لبوں کو ذرا سا ہی سہی تَر کردے
سنائی دے گی ترے دل کہ بات اسے راجاؔ
صبا کو بول یا خوشبو کو نامہ بر کردے
شاعر: امجد علی راجاؔ