گو ذرا سی بات پر اک بار ہم تھانے گئے

گو ذرا سی بات پر اک بار ہم تھانے گئے
ہر طرح کے جرم کے پھر مرتکب مانے گئے

تشنگی کچھ اس طرح اپنا مقدر ہوگئی
پڑ گیا چھاپا پولیس کا جب بھی میخانے گئے

رات بھر میں جاگتا رہتا تھا کھانسی کے سبب
تنگ آکر چور خود لے کر شفاخانے گئے

گیپ ہم مہروں کا لے کر آگئے اس عمر میں
پیٹ کم کرنے جو ہم اک بار جم خانے گئے

باس ہو یا باپ ہو، ہیں پیار کے دشمن سبھی
پہلے دفتر سے گئے پھر گھر سے دیوانے گئے

ہم ہیں ان داتا کرپشن کے یہ ثابت ہوگیا
تب کہیں جا کر سیاستدان ہم مانے گئے

جیب، جوتے، بیگ کی جامع تلاشی ہوگئی
ہم نہانے کے لئے جب بھی غسل خانے گئے

کیا قیامت تھی کہ بیگم سے پِٹے ہم رات بھر
صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے

لڑ پڑے آپس میں بٹوارے کو لے کر راہ میں
باپ کی میّت کو بیٹے خوب دفنانے گئے

شاعر: امجد علی راجاؔ