ہم ٹھہرے بیزار مسافر، اپنا کیا
دنیا، دنیاداروں کا گھر اپنا کیا
مجھ جاہل کو ایک توکل کافی ہے
باقی جانیں عالم بہتر، اپنا کیا
اپنا خون بہانے کی جب ٹھان ہی لی
سینہ جانے، جانے خنجر، اپنا کیا
ساحل ہے کشتی کی قسمت یا گرداب
لہریں جانیں، جانے ساگر، اپنا کیا
تھام لئے میزان سبھی نے ہاتھوں میں
کون ہے اعلیٰ، کون ہے کمتر، اپنا کیا
مالی کو ہی فکر نہیں جب گلشن کی
کنکر آئیں، آئیں پتھر، اپنا کیا
کون گرا اور کون سنبھلنا سیکھ گیا
پتھر جانے، جانے ٹھوکر، اپنا کیا
کس نے کیا مانگا تھا، کس نے کیا پایا
کون فقیر ہے، کون گداگر، اپنا کیا
لوگوں کا کردار ہے کچھ، گفتار ہے کچھ
کس کا باطن کتنا ظاہر اپنا کیا
کانچ کے گھر میں رہتے ہیں لیکن راجاؔ
گھر والوں کے ہاتھ میں پتھر، اپنا کیا
امجد علی راجاؔ