خود سے نہیں ملا جو میں تجھ سے نہیں ملا
تجھ سے ہی خود کی ذات کا مجھ کو یقیں ملا

خوشیوں کی کہکشاں نہ سہی صرف غم سہی
صد شکر میرے دل کو بھی کوئی مکیں ملا

تُو کیا گیا کہ ساتھ ہی سب کچھ چلا گیا
اک عمر ڈھونڈ کر بھی میں خود کو نہیں ملا

اے آفتاب تو نے تو دیکھا ہے ہر کوئی
کیا میرے نازنین سا کوئی حسیں ملا

کانٹوں پہ، پتھروں پہ چلا ہوں تو تب کہیں
وہ مخملیں، وہ مرمریں، وہ صندلیں ملا

گوہر سبھی جہان کے دیکھے قریب سے
اے وقت! میرے بیٹے سا کوئی کہیں ملا؟

کل تک خدا بنا تھا وہ جو زیرِ آسمان
مٹی میں غرق آج وہ زیرِ زمیں ملا

صحرا اجڑ گئے تھے جو آباد ہو گئے
راجاؔ ملا تو قیس کو بھی جانشیں ملا

شاعر: امجد علی راجاؔ