ظلم پر چپ جو رہا، موت تو ٹل جائے گی
پر یہی چپ میری نسلوں کو نگل جائے گی
ہم نے خود غیر کی تہذیب درآمد کی ہے
کیا خبر تھی کہ تمدن کو کچل جائے گی
اب تو چھڑکاؤ ضروری ہے ذرا سختی کا
نسلِ نو ریت ہے، ہاتھوں سے پھسل جائے گی
سوچ کے دیپ جلاؤ کہ کڑی ظلمت ہے
رات کے نام پہ سورج کو نگل جائے گی
خود کو سمجھا کہ کوئی بات بڑی بات نہیں
دن بھی تو ڈھل ہی گیا، رات بھی ڈھل جائے گی
حکم ہے، قوم کو آزاد کہا کر راجاؔ
عرض ہے، کیا مری تاریخ بدل جائے گی
امجد علی راجاؔ