اگرچہ اک زمانہ چاہیئے تھا

اگرچہ اک زمانہ چاہیئے تھا
ستمگر کو بھلانا چاہیئے تھا

مقدر کا گلہ کرنے سے پہلے
مقدر آزمانہ چاہیئے تھا

مجھے ملتا بھلا کیسے زمانہ
زمانے کو زمانہ چاہیئے تھا

سبھی آوارہ پنچھی لوٹ آئے
اسے بھی لوٹ آنا چاہیئے تھا

ذرا سے بات پر تم روٹھ بیٹھے
تمہیں تو بس بہانہ چاہیئے تھا

تمہیں دولت نے مفلس کر دیا ہے
تمہیں انساں کمانا چاہیئے تھا

وہ بچہ مر گیا کھا کھا کے دھکے
اسے تھوڑا سا کھانا چاہیئے تھا

انہیں گلشن بھی اب کم پڑ گیا ہے
جنہیں اک آشیانہ چاہیئے تھا

امجد علی راجاؔ