خواب و خیال فانی، بس سوچ کی بقا ہے
شامل نہ فکر ہو تو پھر سوچ بھی فنا ہے
ہم خود کو ڈھونڈتے ہیں، موجود ہم ہیں خود میں
ہم خود سے بےخبر ہیں، کتنی بڑی خطا ہے
محرومِ خودشناسی، محکومِ خودفریبی
بس غور و فکر ہی تو اس مرض کی دوا ہے
کھُلتی ہیں جستجو پر منزل کے بعد راہیں
دیکھو تو انتہا ہے، سمجھو تو ابتدا ہے
اندر کی ایک ہلچل لفظوں میں ڈھل رہی ہے
اندر کی ایک ہلچل جو زیرِ ارتقا ہے
دنیا میں ہوں میں لیکن، مجھ میں ہے ایک دنیا
راجاؔ یہ خودشناسی کا ایک معجزہ ہے
امجد علی راجاؔ