ہر ایک در پہ سر تو جھکانے سے میں رہا

ہر ایک در پہ سر تو جھکانے سے میں رہا
ہر روز اک خدا تو بنانے سے میں رہا

ہر شخص مجھ سے خوش بھی ہو ممکن نہیں ہے یہ
اب سب کی ہاں میں ہاں تو ملانے سے میں رہا

ہر روز روٹھنا تری عادت ہی بن چکا
اب روز روز تجھ کو منانے سے میں رہا

مانا کہ مہربان ہے دنیا بہت مگر
سینے کے زخم سب کو دکھانے سے میں رہا

راضی ہر ایک طور ہوں، دو دن کہ چار دن
عمرِ دراز مانگ کے لانے سے میں رہا

بس اک یہی چراغ میسر تھا، پیش ہے
مفلس ہوں کہکشاں تو سجانے سے میں رہا

غفلت کی نیند چھوڑ دو اہلِ چمن اٹھو
تنہا تو اس چمن کو بچانے سے میں رہا

راجا نہ جی سکوں گا کبھی چپ اگر رہا
آواز دل کی دل میں دبانے سے میں رہا

امجد علی راجاؔ