شام و سحر روتی رہتی ہو، پاگل ہو؟
چپ کا غم تم کیوں سہتی ہو، پاگل ہو؟
میں تو پاگل ہوں سو گم سم رہتا ہوں
تم کیوں گم سم سی رہتی ہو، پاگل ہو؟
چھوڑ کے تم کو کیسے میں جی پاؤں گا
تم کیسی باتیں کہتی ہو، پاگل ہو؟
پیار تو جرم ہے دنیا خوب سزا دے گی
نام مرا لیتی رہتی ہو، پاگل ہو؟
نفرت، کینہ، بغض، حسد، دنیا کا چلن
پیار کی موجوں میں بہتی ہو پاگل ہو؟
روند دیا کرتی ہے دنیا خوابوں کو
کانچ کے گھر میں کیوں رہتی ہو، پاگل ہو
جیسا دیس ہو ویسا بھیس ضروری ہے
کچھ بھی پوچھو سچ کہتی ہو پاگل ہو
لوگ برا کہتے ہیں راجاؔ کو تو کیا
کیوں سب سے لڑتی رہتی ہو، پاگل ہو
شاعر: امجد علی راجاؔ
شام و سحر روتی رہتی ہو، پاگل ہو؟
- account_box
- date_range
- folder اردو شاعری,اردو غزل,شاعری
- speaker_notes 0