رشتے ہیں اب سارے پتھر
پتھر بھی دو دھارے پتھر
آدم جب دنیا میں آئے
عرش نے ساتھ اتارے پتھر
ٹوٹ گئے پر توڑ نہ پائے
عاشق جیتے ہارے پتھر
مجنوں معاف ہمیں کر دینا
رو رو کر یہ پکارے پتھر
ہم پر برسانے کو لائے
اپنے لوگ ادھارے پتھر
پھول نہ برسا ایک بھی ہم پر
قسمت میں ہیں سارے پتھر
ہم سے پہلے کیا وقعت تھی
ہم نے لہو سے نکھارے پتھر
پھینک دو میرے پیارے لوگو
تم کو کیوں ہیں پیارے پتھر
راجاؔ ایک صدائے حق پر
سب نے مل کر مارے پتھر
شاعر: امجد علی راجاؔ