امکان

امکان

ممکن ہے باوفا ہی ہو وہ، بے وفا نہ ہو
ممکن ہے اس جدائی میں اس کی خطا نہ ہو
ممکن ہے وقت نے اسے موقع دیا نہ ہو
ممکن ہے اس کے پاس کوئی راستہ نہ ہو

ممکن ہے دور جا کے وہ مجھ سے اداس ہو
ممکن ہے میری یاد کہیں آس پاس ہو
ممکن ہے میری دید کی اس کو بھی پیاس ہو
ممکن ہے اس کے دل میں بھی ملنے کی آس ہو

ممکن ہے ساری رات مجھے سوچتا ہو وہ
ممکن ہے کروٹوں میں مجھے ڈھونڈتا ہو وہ
ممکن ہے چھت کو رات گئے گھورتا ہو وہ
ممکن ہے ممکنات سے کچھ پوچھتا ہو وہ

ممکن ہے میری طرح وہ رہتا ہو بے مقام
ممکن ہے میری طرح بھٹکتا ہو گام گام
ممکن ہے میری طرح گزرتے ہوں صبح و شام
ممکن ہے میری طرح ہو زندہ برائے نام

امجد علی راجاؔ