اے قوم جاگ جاؤ
غفلت سے خود بھی جاگو، اوروں کو بھی جگاؤ
کچھ قوم کا بھی سوچو، خود سے نظر ہٹاؤ
ڈر ڈر کے جی رہے ہو، اس خوف کو بھگاؤ
خاموش کیوں ہو؟ حق کی آواز تم اٹھاؤ
دیمک ہیں سو طرح کے، ارضِ وطن بچاؤ
اے قوم جاگ جاؤ، اے قوم جاگ جاؤ
اسلاف نے جو دیکھے، وہ خواب تھے سنہرے
پھر بھی غلامیوں کے دل میں رہے بسیرے
سوچوں پہ بھی ہماری اب تک لگے ہیں پہرے
جانے گزر گئے کب آ آ کے سب سویرے
اب تو نصیب اپنے سوئے ہوئے جگاؤ
اے قوم جاگ جاؤ، اے قوم جاگ جاؤ
اہلِ وطن تو تھے ہی، دھرتی بھی اب ہے زد میں
حق اور ساتھ میرٹ ڈالے گئے لحد میں
رہبر خدا بنے ہیں، کب ہیں وہ اپنی حد میں
امید اُن سے کیسی، ڈسنا ہے جن کی جد میں
ان ظالموں کے قبضے سے اب وطن چھڑاؤ
اے قوم جاگ جاؤ، اے قوم جاگ جاؤ
لیڈر جسے بنایا، مالک وہ بن گیا ہے
چُپ ہے، مگر محافظ سب کو نچا رہا ہے
کیوں ظلم سہ رہے ہو، کس بات کی سزا ہے
لازم ہے خود کو بدلو، قرآن میں لکھا ہے
تلوار مل کے سارے ایمان کی اٹھاؤ
اے قوم جاگ جاؤ، اے قوم جاگ جاؤ
ہوتے نہیں ہیں جب تک ہم لوگ ایک سارے
ممکن نہیں کہ بدلیں حالات پھر ہمارے
ہم خود ہی جب نہیں ہیں کیوں غیر ہوں سہارے
اُٹھو، بنو مجاہد، دھرتی ہمیں پکارے
ہے جنگ ظالموں سے، اپنے قدم بڑھاؤ
اے قوم جاگ جاؤ، اے قوم جاگ جاؤ
راجاؔ قلم کا مقصد ہے قوم کو جگانا
خوشحال اس وطن کے ہر فرد کو بنانا
اس ملک کی کرپشن میں روک تھام لانا
میرٹ کو بھی یقینی ہر طور پر بنانا
یک جہتیئِ وطن کے پرچم کو تم اٹھاؤ
اے قوم جاگ جاؤ، اے قوم جاگ جاؤ
امجد علی راجاؔ