دیارِ غیر میں
امید کے چراغ جلانے نکل گئے
سوئے ہوئے نصیب جگانے نکل گئے
گھر کا سکون چھوڑ کے ہم ایسے سادہ دل
پردیس میں سکون کمانے نکل گئے
ناکامیوں کی زد میں مری جستجو رہی
محرومیوں کی زد میں ہر اک آرزو رہی
اپنے تمام خواب حقیقت میں لُٹ گئے
بچوں کے سارے خواب بچانے نکل گئے
دولت کی جستجو میں جوانی گنوا چکے
لیکن خدا کا شکر کہ بچے پڑھا چکے
اچھے دنوں کی جستجو پوری ہوئی مگر
اچھے دنوں کی دُھن میں زمانے نکل گئے
اماں کی دیکھ بھال کی مہلت نہ مل سکی
بچوں کے ساتھ کھیل کی فرصت نہ مل سکی
بچوں کے ساتھ آخری کچھ دن گزارنے
لوٹے جو گھر تو بچے کمانے نکل گئے
امجد علی راجاؔ