چڑھا کے رکھا ہے سر پہ جس کو اسے اتارا تو میں تمہارا

چڑھا کے رکھا ہے سر پہ جس کو اسے اتارا تو میں تمہارا
“کزن” جسے کہہ رہی ہو، “بھائی” اسے پکارا تو میں تمہارا 

گھماتی رہتی ہو ساتھ جس کو رقیب میرا  ہے وہ کمینہ
گھسیٹ کر کار سے جو تم نے اسے اتارا تو میں تمہارا

بھلا میں کس کس کے پیر پکڑوں، بھلا میں کس کس سے مار کھاؤں
سنو! رقیبوں سے تم جو خود ہی کرو کنارہ تو میں تمہارا

رہِ محبت میں سب کچھ اپنا نثار کرنا بھی لازمی ہے
جو ساتھ لاؤ تم اپنے ڈیڈی کا مال سارا، تو میں تمہارا

تمہیں محبت ہے مجھ سے لیکن مری ہے پہلے سے ایک بیگم
خوشی سے ہے دوسری جو بننا تمہیں گوارا تو میں تمہارا 

گلے پڑا ہوں کہاں میں جاناں، گلا نہیں پیر ہیں تمہارے
قبول کرلو میری گزارش اگر خدارا تو میں تمہارا

تمہارا پیچھا میں چھوڑ دوں گا اگر بتادو غزل ہے کس کی؟
مگر مرا نام یا تخلص اگر پکارا تو میں تمہارا

او سامری کی حسین بیٹی! یہ کس پہ تعویذ کر رہی ہو؟
بلیک میجک سے توبہ کرکے مجھے پکارا، تو میں تمہارا

وہ کہتی پھرتی ہے لڑکیوں سے نہیں کسی کام کا بھی راجاؔ
اسے ٹِکا کر جواب دے دو اگر کرارا تو میں تمہارا

امجد علی راجاؔ