شادی ہی بس علاج ہے ایسے ذلیل کا

شادی ہی بس علاج ہے ایسے ذلیل کا
جس نے بھی ہے بنایا یہ بیلن سٹیل کا

بیوی کو دے سکا نہ جواب اک دلیل کا
منہ رہ گیا کھلے کا کھلاہی وکیل کا

اُف تک زبان پر نہیں  بیگم سے پٹ کے بھی
ایسا مزاج ہوتا ہے مردِ اصیل کا

تعداد بیویوں  کی کبھی بھی نہ طاق ہو
اتنا قلیل راز ہے عمرِ طویل کا

دفتر  میں   نوکری ہے تو گھر میں ہے چاکری
مت پوچھیئے جو حال ہے گھر کے کفیل کا

لازم ہے موت بھوک سے یا خودکشی سے ہو
جس ملک  میں   ہو دورِ حکومت بخیل کا

قانون کی گرفت سے کیسے بچے ہیں  وہ
کب راز پا سکا کوئی اندر کی ڈیل کا

شاعر: امجد علی راجاؔ