سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

“سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں”
بس ایک ہم ہی ہیں جو اس کو ڈر کے دیکھتے ہیں

تری زمیں میں چلا کر ٹریکٹر اپنا
فرازؔ معجزے ہم بھی ہنر کے دیکھتے ہیں

پھسل کے زینے سے بیگم زمیں پہ جا پہنچی
کہیں وہ بچ نہ گئی ہو اتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے پہلی نظر کا نہیں گناہ کوئی
سو ہم بھی پہلی نظر آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

رہا جو حد میں تو محبوب سارے چھوڑ گئے
سو اب کے عشق میں حد سے گزر کے دیکھتے ہیں

چچا حضور سے آنٹی نہیں بچی کوئی 
ہیں پاؤں قبر میں پر آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

وہ ہوش آتے ہی بے ہوش ہونے لگتے ہیں
مریض جیسے ہی بِل ڈاکٹر کے دیکھتے ہیں

ملی ہے نوکری جب سے ہماری بیگم کو
مزاج او ہی اپنے سسر کے دیکھتے ہیں

کئی وزیروں سے ٹانکے ہیں اس پری وش کے
ہے ماتحت مگر افسر بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

بنا ہی دیتے ہیں “بے بے” کو دلنشیں “بے بی”
عجیب معجزے ہم پارلر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے عافیت اس بات میں ہی پنہاں ہے
سو ہم بھی آج سے بیگم سے ڈر کے دیکھتے ہیں

پھدک پھدک کے یہ معدے میں جا دھڑکتا ہے
عجب تماشے دلِ منتظر کے دیکھتے ہیں

ہیں کاغذوں سے بھرے پرس جیب میں سب کی
مشاعرے میں جو پاکٹ کتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے حسن الرجک ہے مونچھ سے راجاؔ
سو ہم بھی عشق میں مونچھیں کتر کے دیکھتے ہیں

شاعر: امجد علی راجاؔ