چار دفتر میں ہیں، اک گھر میں ہے اور اک دل میں ہے

چار دفتر میں ہیں، اک گھر میں ہے اور اک دل میں ہے
چھ حسینوں میں گھِرا راجاؔ بڑی مشکل میں ہے

ذکر سن کر چھ حسینوں کا نہ گھبرا جانِ من
اک حسینہ کے لئے اب بھی جگہ اس دل میں ہے

ساس کے پہلو میں بیوی کو جو دیکھا ڈر گیا
“یا الٰہی خیر ہو خنجر کفِ قاتل میں ہے”

میں تو سمجھا تھا کہ جاں لیوا ہے بیماری مری
موت کا سامان لیکن ڈاکٹر کے بِل میں ہے

نوٹ ہیں اس میں نہ پرچی، ڈگریاں ہی ڈگریاں
جاب لینے کے لئے کچھ بھی تری فائل میں ہے؟

مشرقی ہیں باپ دادا، مغربی ہے نسلِ نو
میری جنریشن کہاں جائے بڑی مشکل میں ہے

ایک ہی بیٹا کماؤ ہے، مگر وہ چور ہے
دوسرا بےکار ہے جو ماسٹر ایم فل میں ہے

شاعر: امجد علی راجاؔ