آئیں گے پھر وہ لوٹ کے سب سے ملا کے ہاتھ
اس بار جو نکل گئے لندن دکھا کے ہاتھ
کس کس کو کیسے کیسے وہ چونا لگا گئے
پیچھے سے قوم دیکھے گی خود کو لگا کے ہاتھ
آپس کا اختلاف سیاست کا ڈھونگ ہے
لُوٹیں گے قوم کو سبھی مل کے، ملا کے ہاتھ
ہم ہیں کرپٹ، ووٹ بھی دیں گے کرپٹ کو
کیوں اقتدار آئے کسی پارسا کے ہاتھ
کیا تھی خبر رقیب میرا باکسر بھی ہے
پچھتا رہا ہوں ہائے میں اس پر اٹھا کے ہاتھ
دعوت کا اہتمام دکھایا خبیث نے
چائے پہ اکتفا کیا اس نے دھلا کے ہاتھ
دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سونے کی رِنگ ہے
پکڑا دیا پھر اس نے مجھے مسکرا کے ہاتھ
شرما دیا اسے، ہو پسینے کا بیڑہ غرق
“انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ”
کردی تھی نام زوجہ کے کوٹھی نکاح میں
بیٹھا ہوں میں بھی جوش میں اپنے کٹا کے ہاتھ
ہم سے خراب لوگ لگیں گے فرشتہ صفت
تجھ کو لگے نہیں ہیں کسی پارسا کے ہاتھ
شاعر: امجد علی راجاؔ