ہو ہی جائے نہ رقیبوں سے جدل کچھ مت سوچ
کوچہءِ حسن سے جلدی سے نکل کچھ مت سوچ
کب تلک بیٹھ کے روئے گا صبا کو پاگل
خود ہی آتی ہے تو آنے دے کنول کچھ مت سوچ
فطرتِ حسن سمجھنے کی تو کوشش بھی نہ کر
عشق ہو جائے گا منٹوں میں پزل کچھ مت سوچ
شکر کر رب کا ادا اور سکوں سے سو جا
لوگ کیوں رات کو سنتے ہیں غزل کچھ مت سوچ
صاحبِ فکر سخنور سے ہوئے بور سبھی
سوچ کر لکھنے کی اب سوچ بدل کچھ مت سوچ
تُو نے لُوٹا تھا کسی کو وہ تجھے لُوٹ گئی
دوست دنیا ہے مکافاتِ عمل کچھ مت سوچ
کام آئے گی یہ اوپر کی کمائی راجاؔ
نوٹ رکھ جیب میں، فی الفور نکل کچھ مت سوچ
شاعر: امجد علی راجاؔ