وہی پیسے بچا رکھے ہوئے ہیں

وہی پیسے بچا رکھے ہوئے ہیں
جو بیگم سے چھپا رکھے ہوئے ہیں

بلا کا حوصلہ رکھے ہوئے ہیں
جو گھر میں اک بلا رکھے ہوئے ہیں

زباں پر رام رام ایسے نہیں ہے
بغل میں کچھ چھپا رکھے ہوئے ہیں

گریباں چاک کر دیتی ہے دنیا
تو اب ہم بھی کھلا رکھے ہوئے ہیں

ہوا ناراض پہلا پیار ہم سے
سو اب ہم دوسرا رکھے ہوئے ہیں

اسمبلی میں مچا کر غل غپاڑا
سیاسی دبدبہ رکھے ہوئے ہیں

حکومت کو کوئی امید ہوگی
ابھی کاسہ اٹھا رکھے ہوئے ہیں

شاعر: امجد علی راجاؔ