ہاتھوں سے زخم دینا دنیا جہاں سے سیکھا

ہاتھوں سے زخم دینا دنیا جہاں سے سیکھا
باتوں سے زخم دینا بیگم کہاں سے سیکھا

تیلی لگاتے رہنا، نسلوں سے چل رہا ہے
بیگم کی ماں نے بھی ہے سب اپنی ماں سے سیکھا

امی بہو سے بولیں میڈم ہوں میں وہاں کی
شوہر کو بس میں کرنا تم نے جہاں سے  سیکھا

سب راز کھول دیتے ہیں رازداں ہی اکثر
یہ راز میں نے اپنے اک رازداں سے سیکھا

مطلب نکال لینا، وعدوں پہ ڈال دینا
کچھ افسروں سے سیکھا کچھ حکمراں سے سیکھا

جب شیر مارنا ہو، کتے بھی ساتھ رکھ لو
میں نے یہ گیدڑوں کے اک کارواں سے سیکھا

شادی کے بعد میں بھی چالاک ہو گیا ہوں
اب یہ نہ پوچھ لینا، راجاؔ کہاں سے 

شاعر: امجد علی راجاؔ