مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

میں نے سمجھا تھا کہ دولت سے درخشاں ہے حیات
میرے ابا ہیں حکومت میں تو ڈرنا کیا ہے
میرے کنبے سے سیاست کو ملے گی نہ نجات
اک سیاست کے سوا ملک میں رکھا کیا ہے

بھائی ایس پی جو بنے دل کو سکوں ہوجائے
یوں نہ تھا میں فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور کوئی بھی مجھے ڈر نہیں غربت کے سوا
راحتیں کون سی دنیا میں ہیں دولت کے سوا

جب سے ماموں کو ہوئی جیل کرپشن کے سبب
تب سے سرکار کا ٹینڈر کوئی ملتا ہی نہیں
قرض میں ڈوب گیا ہوں میں الیکشن کے سبب
قرض داروں کا کھلا منہ ہے کہ سِلتا ہی نہیں

اب تو پھپھا مرے سرکار میں افسر نہ رہے
اب تو خالو مرے دونوں ہی منسٹر نہ رہے
اب تو تایا بھی ملازم نہ رہے کسٹم میں
کچھ بھی باقی نہ رہیں برکتیں اب اِنکم میں

اور بھی دکھ ہیں مگر تجھ کو بتاؤں کیسے
ہر ملاقات پہ اک گفٹ میں لاؤں کیسے
میں جو کنگال ہوا ہوں تو یہ جھگڑا کیا ہے
اب مری جیب میں تیرے لئے رکھا کیا ہے

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

شاعر: امجد علی راجاؔ