زلفِ دراز شان ہے حسن و جمال کی
نسوانیت ادھوری ہے اس کو نکال کر
بیگم یہی تو حسن کے پیکر کا تاج ہے
رسوا کرو نہ زلف کو سالن میں ڈال کر
شاعر: امجد علی راجاؔ
زلفِ دراز شان ہے حسن و جمال کی
نسوانیت ادھوری ہے اس کو نکال کر
بیگم یہی تو حسن کے پیکر کا تاج ہے
رسوا کرو نہ زلف کو سالن میں ڈال کر
شاعر: امجد علی راجاؔ