گھر میں گھر والی ہے کالی شکر پھر بھی کیجئے
اور دفتر جا کے گوری کے مزے بھی لیجئے
مختلف ہے ہر جگہ کا ضائقہ بھی رنگ بھی
مختلف ملتی ہے “چائے” جس جگہ بھی پیجئے
شاعر: امجد علی راجاؔ
گھر میں گھر والی ہے کالی شکر پھر بھی کیجئے
اور دفتر جا کے گوری کے مزے بھی لیجئے
مختلف ہے ہر جگہ کا ضائقہ بھی رنگ بھی
مختلف ملتی ہے “چائے” جس جگہ بھی پیجئے
شاعر: امجد علی راجاؔ