زلفیں، ابرو، آنکھیں، پلکیں، گردن، لب، رخسار، بدن
ان سے ہی محروم رہے تو تم نے کی کیا خاک محبت
وصل کی آگ میں جلنے والے عاشق جب ہوتے ہیں فیل
دل کی تسلی کی خاطر پھر کہہ دیتے ہیں پاک محبت
شاعر: امجد علی راجاؔ
زلفیں، ابرو، آنکھیں، پلکیں، گردن، لب، رخسار، بدن
ان سے ہی محروم رہے تو تم نے کی کیا خاک محبت
وصل کی آگ میں جلنے والے عاشق جب ہوتے ہیں فیل
دل کی تسلی کی خاطر پھر کہہ دیتے ہیں پاک محبت
شاعر: امجد علی راجاؔ