قوم کے غم سے جڑا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
قوم کے غم سے جڑا تو بھی نہیں میں بھی نہیںپھر بھی نظروں سے گرا تو بھی نہیں میں بھی […]
قوم کے غم سے جڑا تو بھی نہیں میں بھی نہیںپھر بھی نظروں سے گرا تو بھی نہیں میں بھی […]
چار دفتر میں ہیں، اک گھر میں ہے اور اک دل میں ہےچھ حسینوں میں گھِرا راجاؔ بڑی مشکل میں […]
میرا دردِ کمر کم ہوا دیکھ کر، نرس جب مسکرائی مزہ آگیابھر کے ٹیکے مجھے جو لگائے گئے، جام تھے […]
قافیہ ہوگیا جیسے ہی نکالی سگریٹشعر بھی بن گیا جب میں نے لگالی سگریٹ چل پڑا ہاتھ مرا، پھر سے […]
میرے ایمان پہ شک چھوڑ دے ناداں جاناںپانچویں شادی نہیں کرتا مسلماں جاناں کس طرح سیر کراؤں تجھے تاروں سے […]
کبھی یہ آپ، کبھی تم، کبھی یہ تُو کیا ہےزبانِ غیر میں یہ بدتمیز you کیا ہے میں اشک وشک […]
شادی ہی بس علاج ہے ایسے ذلیل کاجس نے بھی ہے بنایا یہ بیلن سٹیل کا بیوی کو دے سکا […]
چڑھا کے رکھا ہے سر پہ جس کو اسے اتارا تو میں تمہارا“کزن” جسے کہہ رہی ہو، “بھائی” اسے پکارا […]
خود پر ستم کیا ہے تو اوروں پہ ظلم بھیناکامیوں کا بوجھ اٹھانے کا خوف ہے اس خوف میں گزار […]
وہ خفا ہوگیا تو تب جانااشک کیسے ہیں خون کے بہتے سانس لینا ہی زندگی تو نہیںموت مرنے کو ہی […]
امیرِ شہر خفا ہیں صدائے حق پہ تو ہوںمجھے تو اپنے خدا کو جواب دینا ہے میرا ضمیر اسی فکر […]
دیارِ غیر میں امید کے چراغ جلانے نکل گئےسوئے ہوئے نصیب جگانے نکل گئےگھر کا سکون چھوڑ کے ہم ایسے […]
اے قوم جاگ جاؤ غفلت سے خود بھی جاگو، اوروں کو بھی جگاؤکچھ قوم کا بھی سوچو، خود سے نظر […]
سنا ہے سال بدلے گا سنا ہے رات کی تاریکیوں میں سال بدلے گاتو پھر طے ہے، زمانہ کل سے […]
رشتے ہیں اب سارے پتھرپتھر بھی دو دھارے پتھر آدم جب دنیا میں آئےعرش نے ساتھ اتارے پتھر ٹوٹ گئے […]
شام و سحر روتی رہتی ہو، پاگل ہو؟چپ کا غم تم کیوں سہتی ہو، پاگل ہو؟میں تو پاگل ہوں سو […]
گناہگار ہیں یارب تُو درگزر کردےشدید ظلمتِ شب ہے کوئی سحر کردے ترے حبیب کے صدقے وصال کردے عطاہمارے پیار […]
خاموش صداؤں کو سنا کون کرے گادلبر تری آنکھوں کو پڑھا کون کرے گا اک تُو ہی تو ہے جس […]
مریضِ عشق کی یارو دوا کوئی نہیں ہے؟تمہارے شہر میں درد آشنا کوئی نہیں ہے؟ غضب یہ ہے محبت کے […]
ہر ایک در پہ سر تو جھکانے سے میں رہاہر روز اک خدا تو بنانے سے میں رہا ہر شخص […]
خواب و خیال فانی، بس سوچ کی بقا ہےشامل نہ فکر ہو تو پھر سوچ بھی فنا ہے ہم خود […]
اگرچہ اک زمانہ چاہیئے تھاستمگر کو بھلانا چاہیئے تھا مقدر کا گلہ کرنے سے پہلےمقدر آزمانہ چاہیئے تھا مجھے ملتا […]
کیسے ممکن ہے کہ پہنچے حق کسی حقدار تککب کوئی ظالم ہے پہنچا کیفرِ کردار تک ہم سا بھی لاچار […]
ہے دعا مری تجھے عشق ہو کسی بے وفا سے خدا کرےتجھے سُکھ کبھی نہ نصیب ہو مری طرح تُو […]
وفا تمہاری تمہارے اپنوں سے دھوکہ کھائے تو لوٹ آناکسی قدم پر بھی دل تمہارا جو ٹوٹ جائے تو لوٹ […]
تسلیم کسی حال میں ظلمت نہیں کرتےہم صاحبِ ایمان ہیں بدعت نہیں کرتے ہم خاک نشینون کی بڑی پختہ نظر […]
سوچوں پہ اک حصار ہے ساقی شراب لایہ ہوش ناگوار ہے ساقی شراب لا بے تاب حسرتیں بھی ہیں، یادیں […]
ترے بانکپن کی شرارتیں یوں دل و دماغ پہ چھا گئیںکبھی دل ہوا تو ہنسا گئیں، کبھی دل ہوا تو […]
اس ستمگر کو خبر کیا کرتےذکرِغم، بارِ دگر کیا کرتے ساری دنیا کا جو دم گھٹنے لگاچند گنتی کے شجر […]
ہم ٹھہرے بیزار مسافر، اپنا کیادنیا، دنیاداروں کا گھر اپنا کیا مجھ جاہل کو ایک توکل کافی ہےباقی جانیں عالم […]
دلِ سنساں کی قسم ہستیِ ویراں کی قسممنتظر ہوں میں تمہارا مجھے اس جاں کی قسم غم نہ کر لوٹ […]
ظلمتِ شب کی قسم وحشتِ زنداں کی قسمرات ڈھلنے کو ہے اب، صبحِ درخشاں کی قسم ہے جواں زندہ دلی […]
ظلم پر چپ جو رہا، موت تو ٹل جائے گیپر یہی چپ میری نسلوں کو نگل جائے گی ہم نے […]